خیرپور میرس، سندھ کا وہ شہر ہے جو کبھی میروں کی ریاست کا دارالحکومت تھا اور آج بھی کھجوروں کے باغات، کوٹ ڈیجی کے قلعے اور فیض محل کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے — یہاں کی زندگی زیادہ تر زراعت اور چھوٹے کاروبار پر چلتی ہے، اور رفتار شہر جیسی تیز نہیں۔ پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اوسط گھریلو آمدنی تقریباً پچاس سے ساٹھ ہزار روپے ماہانہ کے قریب ہے، مگر خیرپور جیسے چھوٹے شہر میں اکثریت اس اوسط سے کہیں کم پر گزارہ کرتی ہے۔ خیرپور کے بے گھر افراد کی الگ سے کوئی سرکاری گنتی دستیاب نہیں، مگر قریب ترین بڑے شہر کراچی میں مختلف سروے کے مطابق بارہ ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں — اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ کے چھوٹے شہروں میں بھی یہ مسئلہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کھانے، پناہ اور طبی مدد کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک یہاں بھی متحرک ہے، اور سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے دستر خوان اور راشن کی سہولت بھی غریب اور بے گھر لوگوں تک پہنچتی ہے، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن بھی سندھ کے مختلف اضلاع میں امدادی کام کرتی ہے۔ اگر تم ان دنوں خیرپور کی گلیوں میں ہو تو یاد رکھو کہ یہ شہر چھوٹا ضرور ہے مگر یہاں کے لوگوں کے دل میں مہمان نوازی اب بھی زندہ ہے، کسی مسجد یا خیرات کے مرکز کا دروازہ کھٹکھٹانے میں کوئی شرم نہیں۔ تم اکیلے نہیں ہو، اور رات جتنی بھی لمبی ہو، صبح ضرور آتی ہے۔
✨کیا کوئی غلطی نظر آئی؟
کیا آپ کو پرانی معلومات، غلط تفصیلات، غائب وسائل، بندشیں، یا خدمات میں تبدیلیاں ملی ہیں؟ ہمیں بتائیں تاکہ ہم جائزہ لے سکیں اور اس گائیڈ کو سب کے لیے درست اور مفید رکھ سکیں۔