مردان خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا شہر ہے، یوسفزئی پشتون روایات کا مرکز، جہاں گنے اور تمباکو کے کھیت شہر کی رونق سے جڑے ہیں اور بازار صبح سویرے سے رات گئے تک آباد رہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ عموماً مہمان نواز ہیں مگر غربت اور بے روزگاری کا دباؤ بھی نمایاں ہے، پاکستان بیورو آف شماریات کے سروے کے مطابق خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی تقریباً چالیس سے پینتالیس ہزار روپے کے قریب رہی ہے، اور مردان جیسے شہر میں اکثر گھرانے اس اوسط سے بھی نیچے گزارہ کرتے ہیں۔ مردان کے بے گھر افراد کی الگ سرکاری گنتی موجود نہیں، مگر قریبی بڑے شہر پشاور میں مختلف فلاحی اداروں کے تخمینوں کے مطابق 2022 میں تقریباً چھ ہزار پانچ سو افراد سڑکوں یا عارضی پناہ گاہوں میں رات گزارتے پائے گئے، اور مردان کی صورتحال بھی اسی نوعیت کی سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں اخوت فاؤنڈیشن، الخدمت فاؤنڈیشن اور ایدھی فاؤنڈیشن یہاں کھانا، عارضی پناہ اور بنیادی طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف رہتی ہیں، اور بہت سے لوگ انہی کے دروازوں سے مدد پاتے ہیں۔ اگر رات کہیں گزارنی مشکل ہو جائے تو مساجد اور ان اداروں کے قریب جانا سب سے محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یاد رکھیں، حالات مشکل ہو سکتے ہیں مگر آپ اکیلے نہیں ہیں، اور ہر دن گزر جانے کے ساتھ ایک نیا موقع بھی ساتھ آتا ہے۔
✨کیا کوئی غلطی نظر آئی؟
کیا آپ کو پرانی معلومات، غلط تفصیلات، غائب وسائل، بندشیں، یا خدمات میں تبدیلیاں ملی ہیں؟ ہمیں بتائیں تاکہ ہم جائزہ لے سکیں اور اس گائیڈ کو سب کے لیے درست اور مفید رکھ سکیں۔