کوئٹہ بلوچستان کا دارالحکومت ہے، پہاڑوں کے درمیان بسا ہوا شہر جہاں سردیوں میں سخت ٹھنڈ پڑتی ہے اور راتیں خاص طور پر بے گھر لوگوں کے لیے مشکل ہو جاتی ہیں، لیکن یہاں کے لوگ عموماً مہمان نواز اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے ہیں۔ پشتون، بلوچ اور ہزارہ برادریوں کا ملاپ اس شہر کو ایک الگ ثقافتی رنگ دیتا ہے، اور خشک میوہ جات کی منڈیوں سے لے کر تنگ گلیوں تک زندگی کی دھڑکن محسوس ہوتی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے حالیہ سروے کے مطابق بلوچستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی تقریباً چالیس سے پینتالیس ہزار روپے کے قریب رہی ہے، جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہے، اور کوئٹہ شہر میں یہ صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ باقاعدہ شماریات نایاب ہیں مگر ایدھی فاؤنڈیشن کے شیلٹر ہومز کے مقامی ریکارڈ کے مطابق کوئٹہ میں سالانہ تقریباً آٹھ سو کے قریب بے گھر افراد پناہ کے لیے آتے ہیں، جو اس شہر میں درپیش مسئلے کی سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے علاوہ الخدمت فاؤنڈیشن اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی) بھی یہاں غریب اور بے سہارا لوگوں کے لیے خوراک، طبی امداد اور بحالی کے کام میں مصروف ہیں، اور یہ ادارے اکثر ایسے لوگوں تک پہنچتے ہیں جن کا کوئی اور سہارا نہیں ہوتا۔ اگر تم اس وقت کوئٹہ کی سڑکوں پر ہو تو جان لو کہ تم اکیلے نہیں ہو، کچھ لوگ اور ادارے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں اور مدد کے دروازے پوری طرح بند نہیں ہیں۔ اپنا خیال رکھنا، ایک وقت میں ایک دن گزارنا کافی ہے۔
✨کیا کوئی غلطی نظر آئی؟
کیا آپ کو پرانی معلومات، غلط تفصیلات، غائب وسائل، بندشیں، یا خدمات میں تبدیلیاں ملی ہیں؟ ہمیں بتائیں تاکہ ہم جائزہ لے سکیں اور اس گائیڈ کو سب کے لیے درست اور مفید رکھ سکیں۔